کاروار 27؍ جنوری (ایس او نیوز) کاروار کےقریب کورم گڑھ جزیرے پرمذہبی میلے سے واپسی کے دوران بحر عرب میں پیش آنے والے کشتی ڈوبنے کے حادثے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی آنکھ کھل گئی ہے اور اب ڈپٹی کمشنر نے غیر قانونی طور پر چلائی جارہی ٹورسٹ بوٹس پر روک لگانے کے احکامات جاری کردئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پیش آنے والے اس کشتی غرقاب ہونے کے اس حادثے میں 16افراد ہلاک ہوگئے تھے،جن میں سے 15 لاشیں سمندر سے نکالی گئیں مگر تاحال ایک بچے کی لاش ابھی تک بازیاب نہیں ہوئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ ایسی غیر مجاز کشتیوں پرروک لگانے کے لئے ڈپٹی کمشنر نے محکمہ کے بندرگاہ کے افسران کو مراسلہ بھیجا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی ٹورسٹ کشتی چلانے کے لئے اجازت طلب کرے تو تمام داخلہ جات کے ساتھ اس کی درخواست محکمہ سیاحت کی ترقیاتی کمیٹی کے پاس بھیج دی جائے گی اور تمام ضروری دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی اجازت نامہ فراہم کیا جائے گا۔
عام طور پر اس حادثے کے لئے بوٹ مالک کے بے پروائی او رغفلت کو ذمہ دار سمجھا جارہا ہے۔کیونکہ ضلع کے مختلف مقامات سے کشتیوں کے مالکان محکمہ بندرگاہ کی اجازت کے بغیر یا قانونی اورحفاظتی اقدامات کی پرواہ کیے بغیر اجازت سے زیادہ تعداد میں افراد کو سیر وتفریح کے لئے یا مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے سمندر ی جزیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔اس کے باوجود محکمہ بندرگاہ کی طرف سے اس سے پہلے ایسی کشتیوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جارہی تھی۔
اب کورم گڑھ کے حادثے کے بعد آئندہ ایسے المناک حادثوں کی روک تھام کے لئے غیرقانونی طور پریا ضروری حفاظتی بندوبست کے بغیرچلائی جا رہی ٹورسٹ بوٹس پر روک لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ضلع ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے بتایا کہ اس سلسلے میں بغیر لائسنس والی کشتیوں کو فوری طور پر ضبط کرنے کے علاوہ جن کشتیوں کو ٹوریزم ڈیولپمنٹ کمیٹی سے اجازت لیے بغیر ہی محکمہ بندرگاہ نے لائسنس دئے ہیں ، ان سب کو منسوخ کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اور ایسی کشتیوں کی تازہ درخواستوں کو ضروری دستاویزات کے ساتھ ٹوریزم ڈیولپمنٹ کمیٹی کے پاس جائزے اور اقدامات کے لئے روانہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ اس کے بعد بھی اگر کوئی غیر قانونی طور پر ٹورسٹ بوٹ چلاتا ہے اور کسی بھی قسم کا حادثہ پیش آتا ہے تو اس کے لئے محکمہ بندرگاہ کو ہی پوری طرح ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔